اہل بیت نیوز ایجسنی ابنا کی رپورٹ کے مطابق:الجزائری دانشور یحیی ابوزکریا نے چوتھی بین الاقوامی کانفرنس بعثتِ امتِ محمدؐ سے خطاب کرتے ہوئے انسانی تاریخ میں انبیائے کرام اور تحریکوں کی مزاحمت کے کردار پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ ہمیشہ حق و باطل، عدل و ظلم کے درمیان کشمکش کی گواہ رہی ہے اور انبیائے کرام و رسل نے سرکشی اور استبداد کے خلاف جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے۔
ابوزکریا کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو مبعوث فرما کر انسانوں کو اپنے رب اور احکامِ الٰہی سے روشناس کرایا اور ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کے اصول کے تحت ایمان کے معاملے میں انسان کو اختیار دیا۔ تاہم انسانی تاریخ میں حق کے علمبرداروں اور ظلم و سرکشی کی قوتوں کے درمیان کشمکش مسلسل جاری رہی ہے۔
الجزائری دانشور نے عالمِ اسلام کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمالی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک مسلم اقوام نے گزشتہ کئی صدیوں کے دوران مغربی طاقتوں کی نوآبادیاتی یلغار کا سامنا کیا ہے۔ یورپی استعمار کے خاتمے کے بعد فلسطین پر قبضے اور امریکہ و صہیونی حکومت کی پالیسیوں کے ذریعے یہ سلسلہ جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کے خلاف متعدد عرب اور اسلامی ممالک میں مزاحمتی تحریکیں وجود میں آئیں، جو بعد کی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔ ان کے بقول، کسی تحریک کو کچلنے یا اس کے رہنماؤں کی شہادت کے بعد دوسری تحریکیں جنم لیتی رہیں اور مزاحمت کا سلسلہ آگے بڑھانے کے لیے نئے رہنما سامنے آتے رہے۔
ابوزکریا نے مزید کہا کہ مختلف ممالک میں استعمار کا تجربہ محض سرزمینوں پر قبضے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ قتل و غارت، جبر و تشدد اور عرب و اسلامی معاشروں کی شناخت تبدیل کرنے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے بعض عرب ممالک کی جانب سے صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل پر گفتگو کرتے ہوئے مصر اور صہیونی حکومت کے درمیان انور سادات کے دور میں ہونے والے معاہدے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، یہ اقدام عرب دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اس عمل نے عرب دنیا کی سیاسی حیثیت کو کمزور کیا۔
الجزائری دانشور نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسی دوران ایران میں انقلاب اسلامی نے جنم لیا، جس نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی، مسلمانوں میں عزت و وقار کا احساس بحال کیا اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی روح کو دوبارہ زندہ کیا۔
ان کے مطابق، انقلاب اسلامی ایران نے عالمِ اسلام میں ایک نئی سمت متعین کی اور مسئلۂ فلسطین کو عالمی توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے فلسطین، لبنان اور یمن میں مزاحمتی تحریکوں کو تقویت دینے میں بھی انقلاب اسلامی کے کردار پر زور دیا۔
ابوزکریا نے لبنان کی اسلامی مزاحمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک نے ملک کے جنوبی علاقوں میں کامیابیاں حاصل کیں، جو عالمِ اسلام میں مزاحمتی تحریکوں کی بیداری کے ثمرات کی ایک مثال ہیں۔
انہوں نے یمن کی صورتِ حال اور فلسطین کی حمایت میں تحریک انصاراللہ کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان پیش رفتوں کو عرب دنیا اور عالمِ اسلام میں مزاحمت کی نئی لہر کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ابوزکریا نے مغربی ممالک کی سماجی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور یورپ کی نئی نسلیں صہیونی حکومت کی پالیسیوں اور مسئلۂ فلسطین کے بارے میں پہلے سے زیادہ تنقیدی مؤقف اختیار کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق، مغربی معاشروں کے بعض حلقوں، ذرائع ابلاغ، جامعات، فنون اور موسیقی کے شعبوں میں فلسطین کی حمایت میں آوازیں پہلے سے زیادہ بلند ہوئی ہیں۔
انہوں نے ان تبدیلیوں کو مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی کی علامت قرار دیا اور کہا کہ مزاحمتی تحریکوں کا احیا مسلمانوں میں یہ امید پیدا کر سکتا ہے کہ وہ ایک بار پھر تہذیبی اور عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کریں۔
الجزائری دانشور کے بقول، یہی صورتِ حال امریکہ اور صہیونی حکومت کی تشویش میں اضافے کا سبب بنی ہے اور اسی وجہ سے وہ ایران کے خلاف محاذ آرائی اور اسے کمزور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ابوزکریا نے اپنے خطاب کے اختتام پر عالمِ اسلام کے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو کمزوری اور پسماندگی کے دور سے نکل کر عالمی سطح پر ایک بار پھر بااثر کردار ادا کرنے، قیادت سنبھالنے اور تبدیلیوں کی تشکیل کرنے والی قوت بننا ہوگا۔
آپ کا تبصرہ